بھٹکل:28/نومبر (ایس او نیوز) نوٹ کالعدم منصوبے کے نفاذ میں مرکزی حکومت مکمل طور پرناکام ہوچکی ہے، نوٹ بندی سے مرکزی حکومت نے ملک کے غریبوں اور مزدور وں کے لئے پریشانیاں کھڑی کردی ہیں ، ان پریشانیوں کا فوری سدباب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج پیر کو بھٹکل تعلقہ کانگریس کمیٹی نے احتجاجی جلوس کا اہتمام کرکے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے صدر ہند کومیمورنڈم پیش کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے کہا کہ ہم نوٹ کالعدم کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اس کے نفاذ کے لئے مناسب انتظام نہیں کیا گیا مرکزی حکومت نظم کی پابندی میں مکمل ناکام ہوئی ہے ، جس کے نتیجے میں عوام کوگزارے کے لئے بھی کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہاہے، بینک کے سامنے غریب لوگ قطاروں میں کھڑے ہوکر سست ہورہے ہیں، اور اسی وجہ سے اب تک 100سے زائد جانیں تلف ہوچکی ہیں۔
بلاک کانگریس صدر وٹھل نائک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے وزیر اعظم ہماری فوج کے سپاہیوں اور دیش بھگتی جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، الیکشن سے پہلے بیرونی ممالک سے کالا دھن لانے کا وعدہ وفا نہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نوٹ کالعدمی کے ذریعے عوام کو بہلانے اور انہیں دوسری راہ پرلے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سرکٹ ہاؤس سے سیکڑوں کانگریسی کارکنان ریلی کی شکل میں نکل کر شمس الدین سرکل سے ہوتے ہوئے بھٹکل اے سی دفترپہنچے۔ ریلی میں مرکزی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی گئی ۔ تحصیلدار وی این باڈکر نے میمورنڈم وصول کیا۔
صدر ہند کو سونپے گئے میمورنڈم میں تحریر کیا گیا ہے کہ نوٹ کالعدم قرار دینے سے ملک کے دیہی عوام ، غیر منظم مزدور، ترکاری فروش اور کسانوں کو بے شمار تکالیف اٹھانی پڑرہی ہیں۔ کوآپریٹیو سوسائٹیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، ملک کی جی ڈی پی 2 فی صد کم ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت شائد یہ بھول گئی ہے بلیک منی صرف نقدی میں نہیں بلکہ جائیداد، زیورات، اسٹاک مارکیٹ میں بھی رقم کی چلن سے ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، بھٹکل تعلقہ پنچایت صدر ایشور نائک، نائب صدر رادھا اشوک وئیدیا، ہوناور تعلقہ پنچایت صدر انیا، بلدیہ صدر محمد صادق مٹا، جالی پٹن پنچایت صدر عبدالرحیم شیخ، ضلع پنچایت ممبر البرٹ ڈیکوستھا، پشپا نائک، سندھو بھاسکر نائک، سویتا گوڈا وغیرہ موجود تھے۔